ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منکی میں کینر ا خلیج کونسل کے زیر اہتمام قانونی بیداری پروگرام کا انعقاد : ماہرین کا خطاب

منکی میں کینر ا خلیج کونسل کے زیر اہتمام قانونی بیداری پروگرام کا انعقاد : ماہرین کا خطاب

Sat, 08 Oct 2016 20:19:29    S.O. News Service

بھٹکل:8/اکتوبر(ایس او نیوز) ملی سطح پر بہت ساری باتیں، معلوماتی پروگرام ہوتے رہتے ہیں لیکن ہمیں عملی سطح پر کام کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ موت وحیات اسی لئے بنایا ہے کہ دیکھیں کہ کون بہتر عمل کرتاہے۔ یہ صورتحال سب پر واضح ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے حالات بہت ہی ابتر ہیں، مگر گہرائی سے مطالعہ کریں تو ایک امید کی کرن ضرور نظر آئے گی ، اگر اس کے بعد بھی مسلمانوں کے حالات نہیں بدلتے ہیں تو وہ خود ہماری کم بختی کی وجہ سے ہوگی نہ حالات کے برے ہونے سے ۔ ان خیالات کااظہار مومنٹ فار جسٹس کے ریاستی سکریٹری اڈوکیٹ محمد اکمل رضوی نے کیا۔

وہ یہاں منکی کے انجمن کانفرنس ہال میں بروز سنیچر 8اکتوبر کو کینرا خلیج کونسل کے زیر اہتمام اور جماعت المسلمین منکی کے زیرانتظام قانونی بیداری پیدا کرنے کے لئے ’’ہمارے شہری حقوق اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں خطاب کررہے تھے۔موصوف وکیل صاحب نے ریاست کی سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں مسلمان دوسرے نمبر پر ہیں لیکن سیاسی اتھل پتھل کاخطرہ ہونے کی وجہ سے اعداد و شمارات  ظاہر نہیں کررہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے لئے  فرقہ واریت سے مقابلہ ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ فرقہ واریت سے مقابلے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان سب سے پہلے قرآن   واحادیث کا پیغام سارے انسانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری کو اداکریں ،اگر ہم یہ کام کریں گے تو  جن فرقہ پرستوں کی چودھراہٹ جاری ہے وہ ختم ہوجائے گی۔لیکن جب ہمارا دیگر قوموں کے ساتھ میل جول ہی نہیں تو اللہ کا پیغام کیسے پہنچائیں گے۔ صرف لٹریچر سے کام نہیں ہوگا بلکہ عملی کردار بھی پیش کرنا ضروری ہے، تب کہیں جاکر کچھ بات بنے گی۔ وکیل رضوی نے میڈیا پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نشریہ میڈیا کے کچھ چینلس مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ ہندؤوں اور مسلمانو ں کے درمیان نفرت پیدا ہو،اور مسلمانوں کے خلاف جتنا زہر اگل سکتے ہیں اگلیں۔اس کے لئے ہمارا ضروری کا م یہ ہے کہ میڈیا پر خاص نظر رکھیں، جہاں کہیں مسلمانوں کے خلاف کوئی کالم یا نیوز شائع ہوتی ہے نشر ہوتی ہے تو قانونی کارروائی کے لئے عملی سطح پرآگے بڑھیں۔ حالیہ طور بحث کا موضوع بنائے گئے تین طلاق پر انہوں نےتفصیل سے بتایا کہ کس طرح اسلام عورتوں کے حقوق کی پاسبانی کرتاہے اور انہیں کتنا اعلیٰ مقام دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آر ٹی آئی کےذریعے بھی بہت سارے کام ہوسکتے ہیں، عقل و حکمت کو استعمال کرنا چاہئے۔ حل اٹھ کر عمل کرنے سے ملتاہے، عمل میں غلطیاں ہوتی ہیں انہی سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ بہر حال آگے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے ، ہم ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہیں۔ لوکل نیوز اخبارات کا مطالعہ کریں، صرف اردو اخبارات نہیں بلکہ خاص کر انگریزی اور کنڑا اخبارات کا مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ گاؤں اور ریاست اور ملک کے مسائل میں بھی ہم کو شامل ہونا ہے۔ الگ تھلگ رہ ، تنہا کوئی کام نہیں کرسکتے۔

مومنٹ فار جسٹس کے پروگرا م ڈائرکٹر محمد ارشاد دیسائی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا ملک دنیا کا بہترین جمہوری ملک ہے، دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہترین دستور ہے۔ مسلمانوں کے جو حالات ہیں وہ کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے عیاں ہیں۔ فرقہ پرست عناصر اپنا قبضہ جماتے ہوئے اپنے نظریہ کو نافذ کرنے کی کوشش میں ہیں، وہیں یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ان کی کوششوں میں ہمارا بھی رول ہے۔ فرقہ پرست قوتیں  ہمیں سب سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ سیاسی لیڈران ہو کہ مذہبی قائدین جس سے انداز میں جو رول ادا کرنا تھا وہ نہیں کرپارہےہیں۔ ہم خود منتشر ہیں نااتفاقی کا شکارہیں۔ اگر ہم نہیں سنبھلے تو جو حالات ہیں اس سے بدتر حالا ت ہونگے ۔ مومن و مسلم ہونے کی حیثیت سے ہمیں دیگر قوموں کے ساتھ ہمیں تعلقات نہیں بلکہ روابط پیدا کرنا ہے۔ صرف جلسے اور جلوس ، نعرے ، جوشیلی تقرریں ظلم کو روکا جاسکتاہے نہ ملک وملت کو بنایا جاسکتاہے۔  مومنٹ فار جسٹس کا مقصد بھی یہی ہے کہ مظلومین کی مدد و تعاون کریں۔ ہر مومن و مسلم ظلم کے خلاف کھڑا ہو۔ ایک جٹ ہوکر کام کرے۔ اپنی صفوں میں اتحاد پید اکرے۔ اڈوکیٹ سمیر شیخ نے  آرٹی آئی اور سائبر کرائم پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ  موبائیل کا اندھا دھند استعمال آپ کو خطرے میں ڈال سکتاہے ، آپ  کی ہر بات ریکارڈ اور وڈیو ہورہی ہے۔ فیس بک پر لئیک، شئیراورواٹس اپ پر کاپی پیسٹ سوچ سمجھ کر کرنے کی بات کہی۔ سائبر کرائم کے متعلق انہوں نے بتایا کہ نوجوان باشعور بنیں اور شعور ی طور پر سوشیل نیٹ ورک کااستعمال کریں۔ انہوں نے عوام سے کہاکہ موبائیل کی درستی بھی بااعتماد افراد کے ہاں ہی کرائیں اورای میل اور اے ٹی ایم کا کوڈ ورڈ باربار تبدیل کرتے رہنے کی صلاح دی۔

 پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کینرا خلیج کونسل کے صدر  عبدالقادر باشارکن الدین نے کونسل کے قیام کا  پس منظر پیش کرتے ہوئے مرحلہ وار کام کا تعارف کرایااور بتایا کہ  کونسل کا قیام بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگلے دنوں میں قانونی تربیتی کیمپ یا ورکشاپ  کا انعقاد کی بات کہتے ہوئے  عملی مشق کرانے کی بات کہی، اور بتا یا کہ ہر کام اللہ کی رضا کی خاطر کرنے چاہئے ،یہ کام بھی صرف اللہ کی رضا کے لئے کئے جارہے ہیں، امید کہ اللہ ہمارے کاموں کو قبول کرےگا۔

قاضی جماعت المسلمین منکی مولانا محمد شکیل سکری نےابتداء میں   تذکیر بالقرآن کے طورپر سورۃ العصر کی روشنی میں انسانی خسار ے کی وجوہات بیان کی اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے ہوئے حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کو صبر قرار دیا۔

اے پی سی آر کے ضلعی ذمہ دار  قمر الدین مشائخ  نے اے پی سی آر کے تحت جو قانونی  کام انجام دئیے جارہے ہیں ان کی رپورٹ پیش کی۔ انجمن انجنئیرنگ کالج کے سکریٹری عبدالرحمن صدیقی  نے کونسل کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ ساحلی پٹی کے 29جماعتوں کا متحدہ محاذ ہی کونسل ہے،  اس کو قائم رکھتے ہوئے فعال رکھنا ازحد ضروری ہونی کی بات ک ہی۔ اور بتایا کہ قانونی چارہ جوئی کے لئے کونسل کا ایک لیگل آفس  ہوناور میں قائم ہوتو بہتر ہوگا۔  

پروگرام کا آغاز  حافظ محمد مبین ابوحسینہ کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ مولوی عرفات کٹنگری نے ہدیہ نعت پیش کی۔ جماعت کے سکریٹری محمد ارشاد قاضی نے مہمانوں کا استقبال  کرتے ہوئے  نظامت کے فرائض انجام دئیے اور آخر میں شکریہ ادا کیا۔ ڈائس پر مدرسہ رحمانیہ کے ناظم معاشمہ محمد عرفان،کونسل کے نائب صدر منا زبیر صاحب، جاجیکا خلیل صاحب، شاہ الحمید شیخ، معاشمہ محمد اقبال، شاہ بندری قادرمیراں موجود تھے۔ تمام کے لئے طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔


Share: